نئی دہلی،03؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)ملک کے بینکاری کے شعبے میں مالی سال 2017 کے دوران کل 12,553 فراڈ کے معاملے سامنے آئے۔ان تمام فراڈ میں ملک کے بینکاری کے شعبے کو کل 18,170 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ان گھوٹالوں میں بینک آف مہاراشٹر میں سب زیادہ 3,893 فراڈ کے معاملے سامنے آئے وہیں روپے کے معاملے میں سب سے بڑا نقصان پنجاب نیشنل بینک کو 2810 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔اسٹیٹیوشنل اویسٹر مشاورتی سروسز کی رپورٹ کے مطابق بینک فراڈ کے یہ معاملے اپریل 2016 سے لے کر مارچ 2017 تک کے ہیں۔ظاہر ہے ان اعداد و شمار میں پنجاب نیشنل بینک کا حال ہی میں سامنے آیا گھوٹالہ شامل نہیں ہے۔مشاورتی سروسز کی اس سالانہ رپورٹ کے مطابق جہاں کچھ بینکوں میں گھوٹلے کی رقم کم ہے لیکن گھوٹالوں کی تعداد غیر متوقع طور پر زیادہ ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے بینکاری کے شعبے میں مالیاتی کنٹرول کے نظام کو جلد سے جلد درست کرنے کی ضرورت ہے۔بھارتی بینکوں میں اتنے بڑے سطح پر ہو رہے مالیاتی اسکینڈل مفت میں نہیں ہو رہے ہیں۔ان گھوٹالوں میں شامل رقم کے علاوہ بینک میں علیحدہ علیحدہ مالی دباؤ پڑتا ہے۔مثال کے طور پر اگر بینک آف مہاراشٹر میں فراڈ کی کل رقم اس کا کل اثاثہ کا 1.02 فیصد ہے۔وہیں اس بینک کے سالانہ این پی اے میں شامل جائے تو بینک کے کل اثاثہ کا تقریبا 20 فیصد ہر سال خطرے میں رہتا ہے۔یہ خطرہ محض کمزور مالیاتی کنٹرول کی وجہ سے ہے ۔غور طلب ہے کہ بینک فراڈ کی وجہ سے ہونے والے نقصان اور این پی اے میں ہو رہے اضافے کے علاوہ بھی بینکوں کو اس فراڈ کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔اتنے بڑے سطح پر ہونے والے فراڈ کی وجہ سے تمام بینکوں کو ایک بڑی رقم سالانہ بنیاد پر آڈٹ کرانے میں بھی خرچ کرنی پڑتی ہے۔لیکن یہ بڑی آڈٹ فیس کے باوجود ملک کے سرکاری بینکوں میں فراڈ کی تعداد ہر سال بے لگام بھاگتی ہے۔